Ads Top

زینب کے قاتلوں کے تعاقب میں

Views: 82 Share it Share it

"زینب کے قاتلوں کے تعاقب میں"
(قسط نمبر 1)
شعیب کیانی

یہ تصویر ایک ویڈیو میں سے لی گئی ہے جو کچھ مہینے قبل نیٹ پر وائرل ہوئی تھی۔ اگر آپ وڈیو کو دیکھیں تو اس ویڈیو میں ایک ساٹھ سے ستر سال کی عمر کے بابا جی ہیں جو ایک چھوٹی بچی کو چھت پر لے آئے ہیں۔ بابا جی نے سر پر ٹوپی جسم پر سفید کپڑے اور چہرے پر داڑھی اور محراب سجائے ہوئے ہیں۔ ویڈیو میں بابا جی اپنا آزار بند کھول کر کھڑےہوتے ہیں اور بچی جس کی عمر پانچ سے سات سال کے درمیان ہے بابا جی کا "عضو" اپنے منہ میں ڈال کر چوستی نظر آتی ہے۔پاس لوہا کاٹنے والی آری بھی پڑی ہے۔

اس تصویر کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ویڈیو ساتھ والے گھر کی چھت سے بنائی گئی ہے جو اس چھت سے بلند ہے جس پر یہ کاروائی ہو رہی ہے۔ اس سارے عمل میں سیڑھیوں کے قریب کوئی بول رہا تھا اور بابا جی اس بچی سے محظوظ ہونے کے ساتھ ساتھ، بار بار چھت کی طرف آنے والی سیڑھیوں کی طرف دیکھتے ہیں جیسا کہ اس تصویر میں قمیض کا دامن منہ میں پکڑے دیکھ رہے ہیں۔

بچی جس اعتماد سے یہ کام کر رہی ہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا۔ یعنی ان کی آپس میں انڈر سٹینڈنگ ہے۔ اس سے دو باتوں کا پتا چلتا ہے ایک یہ کہ بابا جی اور یہ بچی ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہیں ہیں دوسرا یہ کہ ان دونوں کو اس کام کا موقع اکثر ملتا رہتا ہے۔

اب یا تو یہ باباجی اس بچی کے گھر آئے ہوئے ہیں یا یہ بچی بابا جی کے گھر آئی ہوئی ہے۔۔۔۔ امکان اس بات کا بھی موجود ہے کہ یہ ایک ہی گھر میں رہتے ہوں اور دادا یا پوتی ہوں یا نانا اور نواسی ہوں۔

قصور میں ہونے والا زینب کا واقعہ تو ایسا ہے جس کی شکایت پولیس میں ہوئی والدین نے میڈیا پر آتے ہوئے بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ اب ذرا سوچیں آپ کی بچی اپنے دادا، چچا ماموں یا قریبی رشتے دار یا نیک و کار پڑوسی کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہو تو آپ کس کس کو بتائیں گے؟ یقیناً آپ خاندان کی عزت کی خاطر بچی کو چپ کروا دیں گے یا مر گئی ہے تو دفنا دیں گے۔ میری اور آپ کی طرح کے کروڑوں لوگ اپنے خاندان کی عزت کی وجہ سے میڈیا یا پولیس کو نہیں بتاتے۔ اس طرح بچوں کے ساتھ کسی ایک محلے یا شہر میں نہیں بلکہ پورے ملک میں جنسی زیادتی ہوتی ہے جو رپورٹ ہی نہیں ہوتی۔

اپنے خدا کو حاضر ناظر جان کر بتائیں یہ بابا جی سفید داڑھی اور ٹوپی کے ساتھ آپ کو گلی میں ملیں تو آپ انہیں نیک و کار اور دین دار سمجھیں گے یا نہیں؟ اس سفاک انسان نے یہ داڑھی اس لیے رکھی ہے کہ اس کے کرتوت کسی کو پتا نہ چلیں۔ اور کوئی اس پر الزام بھی لگائے تو کوئی یقین نہ کرے۔ ایک طوائف جیسے اپنا کردار چھپانے کے لیے گھر سے برقعہ پہن کر نکلتی ہے بالکل اسی نیت سے اس بڈھے کی طرح کے لوگ داڑھی رکھ لیتے ہیں یا ٹوپی اور عمامہ پہن لیتے ہیں اور سنتِ رسول کی توہین کا باعث بنتے ہیں۔

بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے لوگ نہ تو درندے ہیں نہ ہی ان کو کوئی نفسیاتی مسئلہ ہوتا ہے بلکہ یہ مکمل طور پر صحت مند، شاطر اور ہماری ہی طرح نظر آنے والے انسان ہوتے ہیں۔ یہ لوگ کمال اداکاری سے اپنے حلیے اور عبادت گزاری سے خود کو نیک ثابت کرتے ہیں اور اندر سے اپنی محرمات تک کو نہیں بخشتے۔

ہو سکتا ہے یہ پانچ وقت نماز پڑھتے ہوں صدقے دیتے ہوں حج پر جاتے ہوں۔ ہو سکتا ہے مدرسے یا سکول کے مدرس ہوں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بچوں کے والد، ماموں، چچا یا دادا یا پھر نانا ہوں۔ کیوں کہ عموماً بچے اجنبیوں کے ساتھ اکیلی جگہوں پر نہیں جاتے۔ اس طرح کی زیادہ تر وارداتوں میں سگے اور قریبی رشتے ہی ملوث پائے جاتے ہیں۔ یہ بات اپنے ذہن سے نکال دیں کہ زیادتی کرنے والا اجنبی ہی ہو گا۔ یہ بھی مت سمجھیں کہ داڑھی، نماز یا حج اعتماد کا سرٹیفیکیٹ ہے sexual frustration کسی بھی آدمی کو کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔ کوئی انسان فرشتہ نہیں ہے بلکہ اب شائد فرشتے بھی فرشتے نہیں رہے۔

عورتیں اور بچے اس شخص کے ہاتھوں بھی درندگی کا شکار ہو سکتے ہیں جن کے بھروسے انہیں چھوڑ کر آپ دفتر، دوکان، بیرونِ ملک، حج، عمرے،سہہ روزے، چلے یا پارٹی وغیرہ میں جاتے ہیں۔

بچیاں بچے اور عورتیں چادر اور چار دیواری کے اندر بھی اتنے ہی غیر محفوظ ہیں جتنے باہر۔

بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کیوں ہو رہے ہیں اور ان واقعات کو دوبارہ ہونے سے کیسے روکا جا سکتا ہے گزشتہ دو دن سے لبرل اور مذہبی دانشوروں نے کروڑوں دلیلیں دے دے کر اپنی فہم کے مطابق فیسبک کالی کی ہے۔ کوئی کہتا ہے یہ دین سے دوری کا نتیجہ ہے کوئی کہتا ہے یہ مذہبی ذہنوں کی وجہ سے ہے۔ کوئی کہتا ہے امریکہ میں بھی یہ ہو رہا ہے۔ کسی کے مطابق رسول اللہ کی حضرت عائشہ سے نو عمری کی شادی کرنے کی وجہ سے لوگ نا بالغ بچوں سے مباشرت کو برا نہیں سمجھتے اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب میڈیا، سیکسی فلموں اور مغربی کلچر کے ہمارے معاشرے میں آنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

یہ سب بکواس ہے۔ ان کی باتیں پڑھنے والوں کو نفرت اور شر انگیزی کے علاوہ کچھ نہیں دے رہیں۔۔ جنسی زیادتی اشرف المخلوقات انسان کی تاریخ کے ان ادوار میں بھی ملتی ہے جب سرے سے کوئی مذہب تھا ہی نہیں۔۔۔ جب مذہب ہی نہیں تھا تو یقیناً اس کا انکار کرنے والے کافر بھی نہیں تھے۔ ریپ اس وقت بھی ہوتے تھے جب مشرق اور مغرب کا فرق تھا نہ ہی پورن فلمیں بنتی اور دیکھی جاتی تھی۔ اسلام سے بھی کہیں پہلے لوط علیہ السلام کا زمانہ گزرا ہے جب لوگ سیکس کی فطری حدود سے تجاوز کرتے تھے۔

آپ نے قرآن پڑھا ہو تو لواطت یعنی نوعمر لڑکوں اور عورتوں کے ساتھ پاخانے کی جگہ سے سیکس کرنے سے منع کیا گیا ہے یعنی امریکہ کی دریافت سے ایک ہزار سال پہلے اور پہلی ویڈیو بننے سے تیرہ سو سال قبل زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ سیکس میں حد سے تجاوز کیا کرتے تھے جنہیں منع کرنے کے لیے یہ آیات نازل کی گئیں۔

 

یعنی اس بے ہودگی اور انسانیت سوزی کی وجہ نہ تو کفر ہے نہ ہی کوئی مذہب ہے۔اگر مسئلہ مذہب یا مغرب سے نہیں پیدا ہو رہا تو کہاں سے ہو رہا ہے؟ اس کا حل کیا ہے؟


Home Ads