Ads Top

شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے کی شادی

Views: 750 Share it Share it

تحریر: آصف محمود

شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے کی شادی کی تقریب بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کی حدود میں منعقد کی گئی جس کا بل مبلغ پانچ ہزار روپے ادا کیا گیا۔

شاہ محمود قریشی مریدوں سے نذرانے لے لے کر کیا ملکی خزانے اور ریاستی وسائل کو بھی کسی مرید کا نذرانہ ہی سمجھ بیٹھے ہیں؟ کیا ایک شادی کی تقریب کے لیے جس میں ہزاروں مہمان مدعو ہوں کسی ہوٹل کو بک کیا جاتا تو اس کا بل پانچ ہزار ہی بنتا؟ کیا یونیورسٹیاں اس لیے بنی ہیں کہ طاقتور لوگ یہاں شادیاں فرمائیں اور تبرک کے طور پر پانچ ہزار کا بل ادا کیا جائے؟کیا ایسے لوگ اقتدار میں آ کر نیا پاکستان بنائیں گے؟

ایک روز عمران خان شاہ محمود قریشی کو پہلو میں بٹھا کر ہمیں نئے پاکستان پر لیکچر دے رہے تھے تو میں کہا عمران صاحب آپ اقبال کی بہت بات کرتے ہیں یہ جو صاحب آپ کے پہلو میں بیٹھے یہ تو اقبال کے الفاظ میں مکمل ’’ کشتہ سلطانی و ملائی و پیری ہیں‘‘۔ یہ اپنے مریدوں کو نہیں بخشتے اور آپ چلیں ہیں ان کے ساتھ نیا پاکستان بنانے۔اس دن کے بعد سے آج تک عمران خان کے لوگ اہتمام فرماتے ہیں کہ ایسی کسی بھی تقریب میں صرف وہ حضرات موجود ہوں جو نئے پاکستان کے حصے کے بے وقوف بن کر دانشوری فرماتے ہیں۔اس لیے یہ سوال یہاں لکھ رہا ہوں۔ کوئی جواب دے دے تو عین نوازش ہو گی۔

کپتان خان ہیں تو وہ اپنے جلسوں کے لیے سٹیڈم کی دیواریں تڑوا دیتے ہیں اور مخدوم صاحب ہیں تو یونیورسٹی کو ہوٹل بنا کر فرزند ارجمند کی شادی کی تقریب سجا لیتے ہیں. تحریک انصاف میں کوئی رجل رشید باقہ ہے جو انہیں بتا سکے یہ ملک نہ کسی کے ابا کی جا گیر ہے نہ کسی کے مرید کا نزرانہ. اس لیے ہاتھ ہولا رکھا جائے.

کپتان خان کا " غیرت ایمانی" بھی اس بات پر جاگا کہ وہاں جاوید ہاشمی کو کیوں بلایا گیا چنانچہ وہ. کھانا کھاے بغیر تقریب سے چلے گئے. بریڈ فورڈ یونیورسٹی کے پرو واءس چانسلر کو بھی اس بات کی ہرواہ نہ تھی کہ یونیورسٹی کے ساتھ کیا کھلواڑ کیا جا رہا ہے. ہمت ہے تو کپتان خان اپنی تیسری شادی کا ولیمہ ذرا بریڈ فورڈ یونیورسٹی میں رلھ کر دکھائیں. وہاں نہ سہی چلیں نمل کالج میں منعقد کر کے دکھائیں. کیا ایسی بے ہودگی صرف وہاں ہو سکتی ہے جہاں عام لوگوں کے بچے پڑھتے ہیں.

تحریک انصاف کی قیادت کے لچھن طتا رہے ہیں یہ حکومت میں آ گئے تو لوگ تیسرے ہی مہینے کہہ اٹھیں گے : اللہ بخشے کفن چور کا باپ تو بہت نیک آدمی تھا.


Home Ads