Ads Top

پانچ روپے کے نوٹ کے پیچھے کی کہانی

Views: 685 Share it Share it

یہ پانچ روپے والا پاکستانی پرانہ کرنسی نوٹ ہے۔ اس پر نظر آنے والی سرنگ کا نام خوجک ٹنل ہے اسکی تعمیر کا کام ١٤ اپریل ١٨٨٨کو شروع کیا گیا۔ اس سرنگ کو تین سال کی مدت میں مکمل کیا گیا، اس وقت بھی یہ دنیا کی آٹھویں طویل ترین سرنگ ہے۔ بلوچستان میں واقع اس سرنگ کو ریلوے کے انگریز انجنیر نے دونوں اطراف سے پہاڑوں کی کھدائی کرکے مکمل کرنے کی پلاننگ کی اور تعمیر سے قبل اس کے دونوں سروں کو ملانے کی تاریخ کا اعلان کردیا مگر بدقسمتی سے متعین کردہ تاریخ کو دونوں سرے آپس میں نہ مل سکے۔

انگریز انجینیر نے اسکو سرکاری وسائل کا ضیاع اور اپنے پیشہ وارانہ وقار اور پلاننگ کےمنافی خیال کرتے ہوئے شرمندہ ہوکر خودکشی کرلی۔ اسکی خودکشی کے ایک دن بعد ہی تین سال جاری رہنے والے انجینیرنگ کے اس شاہکار کے دونوں سرے آپس میں مل گئے۔

کیا پاکستان میں اس سوچ کا کوئی بھی شخص حامل ہے؟ جو اپنے اوپر اس طرح ملک کی زمہ داری کہ فرض بنا لے اور کبھی سرکاری وسائل کو بلاوجہ استعمال سے گریز کرسکے۔ اور اپنی نااہلی کہ کبھی ندامت بھی محسوس کرسکے۔


Home Ads