Ads Top

Fruit for King

Views: 104 Share it Share it

مام غزالی (رحمتہ اللہ علیہ) فرماتے ہیں کہ:

ایک بادشاہ تھا، اس کا ایک باغ تھا، اس کے کئی حصے تھے، بادشاہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ میرے لئے اس ٹوکری میں بہترین اور عمدہ قسم کے پھل لے آؤمگر شرط یہ ہے کہ جس حصے میں جاؤ اور وہاں تمہیں کوئی پھل پسند نہ آئے تو دوبارہ اس حصے میں نہ آنا، وہ آدمی باغ کے ایک حصے میں داخل ہوا تو وہاں اسے کوئی پھل پسند نہ آیا، اسی طرح وہ ایک ایک کر کے تمام حصوں میں گیا لیکن کوئی ایک بھی پھل اسکے دل کو نہ بھایا، جب وہ آخری حصے میں پہنچا تو حیرت ذدہ ہواکیونکہ وہاں کچھ بھی نہ تھا اور وہ شرط کے مطابق واپس ان حصوں میں جا بھی نہیں سکتا تھا۔ جہاں پھل تھے مجبوراً وہ خالی ٹوکری لے کر بادشاہ کے سامنے حاضر ہوا، بادشاہ نے پوچھا میرے لئے کیا لائے ہو؟
اس نے جواب دیا، کچھ بھی نہیں لایا۔

-امام غزالی (رحمتہ اللہ علیہ) فرماتے ہیں کہ بادشاہ سے مراد اللہ تعالی کی ذات ہے، باغ سے مراد انسان کی زندگی ہے اور ان حصوں سے مراد انسان کی زندگی کے ایام ہیں، ٹوکری سے مراد انسان کا نامہ اعمال ہے، انسان کہتا ہے کہ میں کل سے نیک اعمال شروع کروں گا اور کل سے نماز پڑھوں گا لیکن، کل کل کرتے ایک دن موت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور جو دن گزر جاتے ہیں وہ واپس نہیں آتے تو یہ اللہ کے پاس خالی دامن چلا جاتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ دنیا دھوکے کا گھر ہے۔

(منقول)


Home Ads