Ads Top

انکا_تعصب کل بھی تھا

Views: 25 Share it Share it

#انکا_تعصب_کل_بھی_تھا
#آج_بھی_ھے_اور_آئیندہ_بھی_رھے_گا

#نہ_ہم_کل_رکے_تھے
#نہ_آئیندہ_رکیں_گے
اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی کے تحت آج ہونے والے پائنیر فیسٹیول میں دس ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کی شرکت متوقع تھی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی باقاعدہ اجازت کے ساتھ گزشتہ چار سال سے منعقد ہونے والی اس سالانہ سرگرمی کے لیے گزشتہ کئی روز سے تیاریاں جاری تھیں۔

فیسٹیول کا پہلا سیشن ٹیلنٹ گالا کے نا م سے منسوب تھا جس میں 800 سے زائد ذہین طلبہ و طالبات کو ایوارڈ اور اسناد دی جانی تھیں۔ فیسٹیول میں کارکردگی کی بنیادوں پر ایوارڈ اور اسناد کا مقصد طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ ملک پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے مزید محنت اور دل جوئی سے اپنی کوشش کرتے رہیں۔ دوسرا سیشن مین مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے موٹی ویشنل سپیکرز نے ورکشاپس کنڈکٹ کروانی تھیں۔ تیسرا سیشن طلبہ یونین کے نام سے منسوب تھا جس میں مختلف سیاسی پارٹیوں اور نامور صحافی حضرات نے شرکت کر کے ماضی کی طلبہ یونین کی کارکردگی اور موجودہ صورتحال پرٹاک شو میں گفتگو کرنا تھی۔ چوتھا سیشن نیلام گھر کے نام سے انعامات کی بھرمار سے بھرپور پلان کیا گیا تھا جس میں آسان سوالوں کے جواب پر طلبہ و طالبات بیش بہا انعامات حاصل کرسکتے تھے۔ پانچواں اور آخری سیشن مزاحیہ مشاعرے کا تھا جس میں ملک پاکستان کے نامور شعراءشرکت کر رہے تھے۔

لیکن اب یہ پروگرام نہیں ہو رہا۔
کیونکہ گزشتہ رات قوم پرست غنڈوں کے حملے، توڑ پھوڑ اور تیاریوں میں مشغول طلبہ پر تشدد کے واقعات کے بعد یونیورسٹی میں شدید خوف ہراس کی فضا ہے، تمام ڈیپارٹمنٹس کو غیر معینہ مدت تک بند کر دیا گیا ہے اور انتظامیہ نے پروگرام کا اجازت نامہ کینسل کرکے چھٹی کا اعلان کر دیا ہے۔

پروگرام کے آغاز سے چند گھنٹے قبل آج صبح 4 بجے پشتون اور بلوچ قوم پرست غنڈوں نے پروگرام کے مقام پر دھاوا بول دیا، ٹینٹ، بینرز، ڈیپارٹمنٹ میں آگ لگا دی، کرسیوں کو توڑ دیا۔ فائرنگ کی اور موقع پر موجود جمیعت کے کارکنان کو مارا۔ زخمی ہونے والوں میں ناظم جامعہ سمیت کئی عہدیدار بھی شامل ہیں۔

میڈیا رویتی مکاری سے کام لیتے ہوئے جمعیت کے پروگرام پر غنڈوں کے حملے کو دو تنظیموں کے درمیان تصادم قرار دے رہا ہے۔

جمعیت کے مسلسل پروگرامات سے بوکھلائے ہوئے شرپسند عناصر کی یہ تخریبی سوچ اور کارروائی ناکام ہوگی۔ جمعیت پوری طرح سے میدان میں موجود ہے، اس کی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ انتظامیہ اس حملے پر ایکشن نہیں لیتی تو حالات کی ذمہ دار ہو گی۔

 

 


Home Ads